Daily Hadess

 یحیی بن صالح، فلیح، ہلال بن علی عطاء بن یسار، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ کے ذمہ یہ وعدہ ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کر دے گا خواہ وہ فی سبیل اللہ جہاد کرے یا جس سرزمین میں پیدا ہوا ہو وہیں جما رہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم لوگوں میں اس بات کی بشارت نہ سنادیں آپ نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں وہ اللہ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کیلئے مقر کئے ہیں دونوں درجوں کے درمیان اتنا فصل ہے جیسے آسمان و زمین کے درمیان پس جب تم اللہ سے دعا مانگو تو اس سے فردوس طلب کرو کیونکہ وہ جنت کا افضل اور اعلیٰ حصہ ہے مجھے خیال ہے کہ حضور نے اس کے بعد یہ بھی فرمایا کہ اس کے اوپر صرف رحمن کا عرش ہے اور یہیں سے جنت کی نہریں جاری ہوئی ہیں۔

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 58 
41 - جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : (375)
اللہ کے راستہ میں جہاد کرنیوالوں کے درجوں کا بیان لفظ سبیل عربی میں مذکر و مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے چنانچہ ہذا سبیلی اور ہذہ سبیلی دونوں طور پر مستعمل ہے۔